ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / کاروار میونسپالٹی کا کچروں کوکھاد میں تبدیل کرنے کا انوکھا منصوبہ : ریاست بھر کے لئے بن سکتا ہے نمونہ

کاروار میونسپالٹی کا کچروں کوکھاد میں تبدیل کرنے کا انوکھا منصوبہ : ریاست بھر کے لئے بن سکتا ہے نمونہ

Tue, 19 Jan 2021 20:28:19    S.O. News Service

کاروار:19؍جنوری (ایس اؤ نیوز) شہر کے شرواڑا میں واقع کچرانکاسی مرکز کو کچرا صنعت کاری میں منتقل کرنے کے لئے کاروار میونسپالٹی نے ایک نیا  منصوبہ  تشکیل دیا ہے، توقع کی جارہی ہے کہ جب یہ منصوبہ نافذ ہوگا تو  اس نئےمنصوبے کے سبب کاروار ریاست بھر میں ایک مثال بن سکتا ہے۔

عام طور پر  جہاں کہیں بھی  کچرا نکاسی کےمرکز ہوتے ہیں وہاں بدبو اور  غلاظت ہوتی ہے۔ کاروار میونسپالٹی کا یہ نیا منصوبہ ایسے کچرانکاسی صنعت کاری مرکز سے بالکل الگ ہوگااور اسی سے ترغیب پاتے ہوئے ریاست کے دیگر علاقوں کی  انتظامیہ بھی  اگر یہی منصوبہ اپناتے ہیں تو پھر  کچرانکاسی مراکز ہی غائب ہوسکتے ہیں  اور کچروں کی مراکز  کھاد اور ایندھن تیار کرنےوالے کارخانوں میں تبدیل ہوسکتے ہیں ۔

کاروار میونسپالٹی کے کارگزار کمشنر آر پی نائک نے جو منصوبہ تشکیل دیاہے اس کے مطابق شرواڑ کے کچرا نکاسی مرکز میں جمع ہونے والے کچرے کو خام مال کےطور پر استعمال کرتےہوئے اس سے کھاد تیار کی جائے گی۔ میونسپالٹی کے نومنتخب صدر ڈاکٹر نتین پکلے  اور نائب صدر پرکاش نائک نے منصوبے کی مکمل تائید کی ہے۔ اگلے پانچ چھ  مہینوں میں شرواڑ کا کچرانکاسی مرکز مکمل طورپر کھاد کو تیار کرنے والے کارخانے  میں منتقل کرنےکی  تیاری جاری ہے ۔ سمجھا جارہا ہے آئندہ چل کر کچرا کا بہتر استعمال کرنے سے میونسپالٹی کو اس سے آمدنی بھی ہوگی اور روزگار کے مواقع بھی میسر  ہونگے۔ اب کچرا نکاسی کا مرکز بد بو کا گڑھ نہیں بلکہ ایک نظم وضبط والی صنعت کاری میں منتقل ہوکر نیا روپ دے گا اور اس کے ساتھ ساتھ سال دو سال بعد کچروں کو ٹھکانے لگانے کے لئے کسی نئی جگہوں کی تلاش کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

کھاد کا برانڈ نام ’کاروار میونسپالٹی ‘:فی الحال شہر کے کچرا نکاسی مرکز میں  روزانہ 10ٹن کچا کچرا جمع ہوتاہے۔ اس کو نامیاتی کھاد میں منتقل کرنےکے لئے 45 دن درکار ہونگے۔ کھاد سوکھنےکے بعد اسکریمنگ مشین کے ذریعے پاؤڈر کے روپ میں کھاد تیار کی جائےگی اور بقیہ کچرے کو سانیٹری پٹ میں ڈالا جائےگا۔ سانیٹری پٹ کی قوت 25برس کی ہے، مگر 15برسوں کے بعد یہاں جمع ہوئے کچرےکو بھی بائیو مائننگ کرتےہوئے دوبارہ کھاد میں منتقل کیا جاسکتاہے۔

فی الحال میونسپالٹی کی جانب سے تیارکردہ کھا د کو گھر گھر 5روپئے فی کلو کے تحت سپلائی کیا جاتاہے۔میونسپالٹی کی جانب سے  اس کو مزید بہتر پیاکننگ کرتےہوئے مارکیٹ میں برانڈنیم دینے کے متعلق  غوروفکر کیا جارہاہے۔ کھاد کے تھیلے پر ’’کاروار میونسپالٹی ‘‘ ہی لکھا جائے گا۔ کاروار میونسپالٹی کی طرف سے تیار کی جانے والی کھاد کی مانگ میں اضافہ دیکھاجارہاہے۔ نیوی اسکول کی طرف سے ایک ٹن کھاد کی خریداری اس کا واضح ثبوت ہے۔

شرواڑ کے کچرانکاسی مرکز میں فی الحال یومیہ 10ٹن کچا کچرا ری سائیکل کیاجاتاہے۔ نکاسی مرکز میں  روزانہ 4ٹن کچرا، 5ٹن ایندھن بنانے کے لائق کچرا، استعمال شدہ ڈیافر 1ٹن، ایک ٹن تعمیراتی کچرا، 1ٹن ہوٹل کا کچرا جمع ہوتاہے۔  ہر دن آنے والے سوکھے کچرے میں سے ری سائیکل کےلائق کچرا کوالگ کرکے بیچا جاتاہے۔ اسی طرح ایندھن بنانےکے لائق کچرے کو بیلنگ مشین کے ذریعے 50 کلو کا پیک  بنا کر بیلگام کی سیمنٹ فیکٹری کو روانہ کیاجاتاہے۔ نکاسی مرکزمیں فی الحال تین لوگ برسرروزگار ہیں،مرکز میں بہت جلد مزید  ایک  4.5 لاکھ روپئے لاگت کی   بیلنگ مشین نصب کی جائےگی ۔ روزانہ تین شفٹوں میں کام ہوگا اور ہر دن 24کوئنٹل ایندھن بنانے والے کچرے کی پیکنگ  کی سہولت ہوگی۔

درختوں کو نامیابی پانی سپلائی :نکاسی مرکز میں جمع شدہ کچے کچرے سے بہنے والے پانی کی ذخیرہ اندوزی کےلئے  لیچٹ نامی ٹینک تعمیر کی جا رہی  ہے۔ چونکہ اس پانی میں کھاد کے ذرات شامل رہتےہیں ، یہاں جمع شدہ کھاد ملوث پانی کو شہر بھر میں سڑک کنارے لگائے پودوں کی  اور باغوں کی سینچائی کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ اس طرح کچرے کے ہر عنصر کا مفید استعمال ہوگا۔

روزگار کے مواقع : کچرانکاسی مرکز کو کارخانےمیں منتقل کئے جانےسے روزگار میں اضافہ ہوگا۔ منصوبے کے مطابق یہاں ایک سہولیات سے آراستہ دفتر کی عمارت ہوگی۔عمارت میں  آفس کمرہ، عورتوں کے لئے علاحیدہ کمرہ ، ڈائننگ روم، کینٹین  شامل ہیں۔ اس کے علاوہ عورتوں کےلئے  2اور مردوں کے لئے 2الگ الگ ٹوئلیٹ ہونگے۔

کچروں کو کھاد میں تبدیل کرنے کا تصور  کاروار میونسپل کارپوریشن کے  کارگزار کمشنر آر پی نائک نے پیش کیا تھا جن کا کہنا ہے کہ کچرا نکاسی مرکز کو اب  منافع بخش صنعت کاری میں تبدیل کیاجائے گا اور اگلے پانچ چھ مہینوں میں یہ منصوبہ اپنا کام شروع کرے گا۔ جن کچروں کو لوگ پھینکتے ہیں اور کچروں کو دیکھتے ہی لوگ جس طرح ناک پر اگلی دبا کر   گذرا کرتے ہیں ، اب یہی کچرا   کھاد میں منتقل ہوگا اور لوگ اسے خریدنے میں دلچپسی لینا شروع کریں گے۔ 


Share: